Al Furqan Store
Quran aur Ilm e Jadeed
Quran aur Ilm e Jadeed
Regular price
Rs.1,500
Regular price
Rs.2,200
Sale price
Rs.1,500
Unit price
per
Couldn't load pickup availability
Writer : Dr M Rafee ud Deen - Pages : 584 - Premium Quality Of white Paper
دورِ حاضر میں مسلمانوں کے سیاسی اور تہذیبی زوال کے اسباب معلوم کرنے کے لیے جن مفکرین نے کوشش کی اُن میں سے ایک طبقہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلامی دنیا کی زوال پذیری کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا علمی انحطاط ہے۔ اس مکتب ِفکر کے مطابق موجودہ دور میں سیاسی اور تہذیبی غلبے کے لیے علمی قیادت ایک ناگزیر شرط ہے۔ برکوچک پاکستان و بھارت میں سرسیّد کی علی گڑھ کی تحریک اس احساس کی پیداوار تھی۔ لیکن مغربی علوم کی بالادستی کی وجہ سے یہ تحریک مسلمانوں کو علمی قیادت کا مقام دلانے کی بجائے احساسِ کمتری پیدا کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گئی۔ اکبر الٰہ آبادی نے اس تحریک کے منفی اثرات کے خلاف اپنی مخصوص طنزیہ شاعری سے ایک پُرزور آواز اٹھائی۔ جس سے مسلمانوں میں دورِ حاضر کے فتنہ ہائے علم و فن کا احساس تو پیدا ہوا۔ لیکن ان سے بچنے کی کوئی راہِ عمل پیدا نہ ہو سکی۔ علّامہ اقبال چونکہ دینی علوم اور علومِ جدیدہ میں یکساں دسترس رکھتے تھے۔ اس لیے وہ ’’دامِ افرنگ‘‘ سے بچتے ہوئی حکمت افرنگ کا دانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جو درحقیقت مسلمانوں ہی کی گمشدہ میراث تھی۔ انہوں نے ’’حرم میں بغاوتِ خرد‘‘ کو فرو کرنے کے لیے ایک مثبت راہِ عمل کی نشاندہی کی اور قوم نے انہیں حکیم الامت کا خطاب دیا۔ یہ علّامہ اقبال ہی تھے جنہوں نے سائنسی اور مذہبی افکار میں اپنی کامیاب تالیفی کوششوں سے حکمتِ افرنگ کی آگ کو گلزارِ ابراہیم بنا لیا۔ طلسم عصر حاضر را شکستم ربودم دانہ و دامش گسستم - خدا داند کہ مانند براہیم بہ زار اوچہ بے پروا نشستم
علامہ اقبال کو پختہ یقین تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور مذہب کے مابین ایسی ہم آہنگیوں کا انکشاف ہوتا جائے گا۔ جس سے اسلام کی حقانیت دنیا پر منکشف ہوتی جائے گی۔ یعنی جوں جوں علم میں ہمارا قدم آگے بڑھے گا زیادہ سے زیادہ بہتر نظریات سامنے آتے جائیں گے جو قرآنی حقائق کی تائید و تصدیق کریں گے۔ علامہ اقبال کی اس فکری روایت کو‘ جس کا ورثہ انہوں نے اپنی شہرئہ آفاق کتاب ’’خطبات‘‘ کی شکل میں چھوڑا‘ اگر کسی دوسرے مسلمان مفکر نے آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے تو وہ ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم ہیں۔ عبدالماجد دریاآبادی نے ایک بار اپنے رسالہ ’’صدقِ جدید‘‘ میں لکھا تھا کہ برکوچک پاکستان و بھارت میں علامہ اقبال کے بعد اگر کوئی دوسرا شخص مسلمان فلسفی کہلانے کا مستحق ہے تو وہ صرف ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم ہی ہیں۔ خود ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم راقم سے فرمایا کرتے تھے کہ اب تو آپ علامہ اقبال کو روتے ہیں۔ لیکن میرے بعدشاید آپ کو دوسرا رفیع الدین بھی میسر نہ آ سکے۔ اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل آپ نے اپنی تصنیفات کے بارے میں فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے راقم کو وصیت کی تھی کہ ان کے بعد ان کی تصنیفات کو زندہ رکھا جائے۔
