Al-furqan Store
Maktoobat e Imam Rabbani
Maktoobat e Imam Rabbani
Couldn't load pickup availability
مجدد الفِ ثانی حضرت شَیخ احمد سرہندیؒ کے اسرارِ شریعت اور معارف طریقت سے بھر پور گرانقدر مجددانہ مکاتیب
(مکمل سیٹ دو جلدوں پر مشتمل ہے )
مترجم – حضرت مولانا قاضی عالم الدین نقشبندی مجددیؒ
مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سر ہندی 971ھ کو ہند و ستا ن کے مشر قی پنجا ب کے علاقہ سرہند میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد شیخ عبدا لا حد چشتی اپنے وقت کے جلیل القدر عالم وعارف تھے …. حضرت مجدد الف ثانی کا سلسلہ نسب 29واسطوں سے امیر المو منین سیدنا حضرت عمر فاروق سے ملتاہے۔آپ نے صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فنِ حدیث حاصل کیا ۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالمِ اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفیذ ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے ۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عبدالحکیم سیالکوٹی‘‘ نے استعمال کیا ۔ طریقت کے ساتھ وہ شریعت کے بھی سخت پابند تھے ۔ مجدد الف ثانی مطلقاً تصوف کے مخالف نہیں تھے۔ آپ نے ایسے تصوف کی مخالفت کی جو شریعت کے تابع نہ ہو۔ قرآن و سنت کی پیروی اور ارکان اسلام پر عمل ہی آپ کے نزدیک کامیابی کا واحد راستہ ہے۔مغل بادشاہ اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ اسلام کا تشخص ختم ہو چکا تھا اور اسلام اور ہندومت میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب میں بدعات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعت دافع سنت ہے، اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا‘‘حضرت مجدد الف ثانی کو اپنے مشن کی تکمیل کے لئے دورِ ابتلاء سے بھی گزرنا پڑا۔ بعض امراء نے مغل بادشاہ جہانگیر کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یقین دلایا کہ آپ باغی ہیں اور اس کی نشانی یہ بتائی کہ آپ بادشاہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ کو دربار میں طلب کیا جائے۔ جہانگیر نے حضرت مجدد الف ثانی کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ نے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ نہ کیا۔ جب بادشاہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا: سجدہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حق ہے جو اس کے کسی بندے کو نہیں دیا جا سکتا۔ہندوستان میں اشاعت ِدین اور تبلیغ اسلام کے لیے آپ کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’سیرتِ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی‘‘علامہ ابوالبیان محمد داؤد پسروری کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب مجدد الف ثانی کی سیرت پر ایک جامع کتاب ہے جس میں آپ کے حالات بالتفصیل بیان کئے گئے ہیں ۔مجدد الف ایک معروف شخصیت ہیں جن کی ہندوستا ن میں اشاعتِ اسلام کےلیے بڑی خدمات ہیں ۔ویب سائٹ پر ان کی سیرت وتعارف کے حوالے سے کوئی کتاب نہ تھی ۔اس لیے کتاب کو ویب سائٹ پر پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے مندرجات سے ادارے کا کلی اتفاق ضروری نہیں ہے

