Al Furqan
Izala tush Shakook
Izala tush Shakook
Regular price
Rs.5,300
Regular price
Rs.7,500
Sale price
Rs.5,300
Unit price
per
Couldn't load pickup availability
مولانا رحمت اللہ کیرانوی اسلام اور اہل سنت کے بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ آپ علماء دیوبند مولانا قاسم نانوتوی ومولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہم کے حلقۂ فکر کے ایک فرد تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، مولانا کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں اور تحریرکے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ ١٨٥٤ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی ١٨٥٧ء میں مولانا کیرانوی حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے۔ اس کےبعد مولانا کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں موصوف نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق کے نام سے تحریر فرمایا۔اور ایک نیک خاتون بیگم صولت النساء کے فراہم کردہ عطیے سے مکہ مکرمہ میں ایک مدرسہ’مدرسہ صولتیہ‘قائم کیا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہا ں بھی عیسائیوں سے مناظرےکئے ۔مولاناکیرانوی نےساری زندگی عیسائیت کے ردّ میں عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اورکئی کتابیں تصنیف کیں۔ زیر نظر کتاب ’’ازالۃ الشکوک‘‘عیسائیت کےردّ میں بڑی اہم اور مفصل ومدلل کتاب ہے۔ بہادر شاہ ظفرؒ کے صاحبزادے ولی عہد مرزا فخر الدین کے پاس عیسائی پادریوں کی طرف سے 29 سوالات بھیجے گئے۔ تو مرزا فخر الدین کی درخواست پر مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے ان سوالات کا جواب لکھنا شروع کیا جو کہ بعد میں 2 جلد میں ازالۃ الشکوک کے نام سے شائع ہوا۔ یہ کتاب سوا سو سال قبل 2 ضخیم جلدوں میں مدراس میں شائع ہوئی تهی اس کتاب کودوبارہ تحقیق و تسہیل کے ساتھ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے محقق عالم حضرت مولانا عتیق احمد بستوی نے 4 جلد میں شائع کروایا۔


